مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَانَ عَلَى طَهَارَةٍ وَشَكَّ فِي الْحَدَثِ . باب: جو شخص با وضو ہو اور پھر اُسے حدث کے بارے میں شک ہو جائے شک ہو جائے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صِلَاتِهِ ، فَيَمُدُّ شَعْرَةً مِنْ دُبُرِهِ ، فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ . فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى - وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ - وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس اس وقت آتا ہے ، جب وہ شخص نماز ادا کر رہا ہوتا ہے ، پھر وہ اُس کی پچھلی شرمگاہ کے پاس کے بال کو کھینچتا ہے ، تو آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے ، جیسے اُسے حدث لاحق ہو گیا ہے ، ( ایسا ) آدمی نماز اُس وقت تک ختم نہ کرے جب تک وہ ( ہوا خارج ہونے کی ) آواز نہیں سن لیتا ، یا بو محسوس نہیں کرتا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اسے امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔