مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَانَ عَلَى طَهَارَةٍ وَشَكَّ فِي الْحَدَثِ . باب: جو شخص با وضو ہو اور پھر اُسے حدث کے بارے میں شک ہو جائے شک ہو جائے
حدیث نمبر: 1250
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ : رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ يَشُمُّ ثَوْبَهُ ، فَقُلْتُ : مِمَّ ذَلِكَ رَحِمَكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ رِيحٍ أَوْ سَمَاعٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا وَثَّقَهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤محمد محی الدین
محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا سائب بن خباب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ اپنا کپڑا سونگھ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ! انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وضو ( ہوا خارج ہونے کی ) بو ( محسوس کرنے ، یا آواز ) سننے پر لازم ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف الحدیث ہے ، میں نے کسی کو اُس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔