مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَانَ عَلَى طَهَارَةٍ وَشَكَّ فِي الْحَدَثِ . باب: جو شخص با وضو ہو اور پھر اُسے حدث کے بارے میں شک ہو جائے شک ہو جائے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ فِي صِلَاتِهِ أَنَّهُ أَحْدَثَ فِي صِلَاتِهِ وَلَمْ يُحْدِثْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صِلَاتِهِ ، حَتَّى يَفْتَحَ مَقْعَدَتَهُ فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ أَحْدَثَ وَلَمْ يُحْدِثْ ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتَ ذَلِكَ بِأُذُنِهِ ، أَوْ يَجِدَ رِيحَ ذَلِكَ بِأَنْفِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا ، جسے نماز کے دوران یہ محسوس ہوتا ہے ، کہ اُس کا وضو ٹوٹ گیا ہے ، حالانکہ اس کا وضو نہیں ٹوٹا ہوتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شیطان تم میں سے کسی شخص کے پاس آتا ہے ، جب وہ شخص نماز ادا کر رہا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ شیطان اس کے مقعد کو کھولتا ہے ، تو آدمی کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اُسے حدث لاحق ہو گیا ہے ، حالانکہ اُسے حدث لاحق نہیں ہوا ہوتا ہے ، جو شخص اس طرح کی صورتحال پائے ، وہ اس وقت تک نماز ختم نہ کرے ، جب تک اپنے کان کے ذریعے ( ہوا خارج ہونے کی ) آواز نہیں سن لیتا ، یا ناک کے ذریعے اُس کی بو محسوس نہیں کر لیتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔