مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَذَّابِينَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ . باب: قیامت سے پہلے آنے والے کذابین ( یعنی نبوت کے جھوٹے دعویداروں ) کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12487
وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ دَخَلَ عَلَى الْمُخْتَارِ فَقَالَ : يَا أَبَا عَامِرٍ ، لَوْ سَبَقْتَ رَأَيْتَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ ؟ قَالَ : حَقُرْتَ وَنَقُرْتَ ، أَنْتَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ، كَذَّابٌ مُفْتَرٍ عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیده انیسہ بنت زید بن ارقم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مختار کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: آپ ذرا پہلے آ جاتے تو آپ جبرائیل اور میکائیل کو بھی دیکھ لیتے ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس سے زیادہ حقیر اور کمتر ہو ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہو ، تم جھوٹے افتراء پرداز شخص ہو جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔