مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَذَّابِينَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ . باب: قیامت سے پہلے آنے والے کذابین ( یعنی نبوت کے جھوٹے دعویداروں ) کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نَعِمٍ أَوْ نُعَيْمٍ الْأَعْرَجِيِّ - شَكَّ أَبُو الْوَلِيدِ - قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ - وَأَنَا عِنْدَهُ - عَنِ الْمُتْعَةِ مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَانِينَ وَلَا مُسَافِحِينَ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَكُونَنَّ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ الدَّجَّالُ وَكَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِقِصَّةِ الْمُتْعَةِ وَمَا بَعْدَهَا ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ الدَّجَّالُ ، وَبَيْنَ يَدَيِ الدَّجَّالِ كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ " . قُلْنَا : مَا آيَتُهُمْ ؟ قَالَ : " أَنْ يَأْتُوكُمْ بِسُنَّةٍ لَمْ تَكُونُوا عَلَيْهَا يُغَيِّرُوا بِهَا سُنَّتَكُمْ وَدِينَكُمْ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاجْتَنِبُوهُمْ وَعَادُوهُمْ " . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : عبدالرحمن بن ابونعم ، یہاں ابوولید نامی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : عبدالرحمن بن ابونعیم اعرجی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے خواتین کے ساتھ متعہ کے بارے میں سوال کیا ، میں اس وقت ان کے پاس موجود تھا ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تو ہم زنا کرنے والے تھے اور نہ ہی خفیہ دوستیاں رکھنے والے تھے ، پھر انہوں نے بتایا : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب قیامت سے پہلے تیس یا اس سے زیادہ دجال اور کذاب ہوں گے ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام ابویعلیٰ نے متعہ والا حصہ اور اس کے بعد والا حصہ نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے بھی
یہ روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” قیامت سے پہلے دجال آئے گا ، اور دجال سے پہلے تیس یا اس سے زیادہ کذاب آئیں گے ، ہم نے عرض کی : اس کی نشانی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ کہ وہ تمہارے پاس ایسے طریقے لے کے آئیں گے ، جن پر تم پہلے گامزن نہیں تھے اور وہ ان کے ذریعے تمہاری سنت اور تمہارے دین کو تبدیل کر دیں گے ، جب تم انہیں دیکھو تو ان سے اجتناب کرنا اور ان سے دشمنی رکھنا ۔ “