حدیث نمبر: 12482
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ شَيْئًا . فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ خَطِيبًا فَقَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَفِي شَأْنِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِيهِ وَإِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا يَبْلُغُهَا رُعْبُ الْمَسِيحِ [ إِلَّا الْمَدِينَةَ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ ] " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، [ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ ] رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ مسیلمہ کے بارے میں بکثرت بات کیا کرتے تھے ، یہ اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ارشاد فرمانے سے پہلے کی بات ہے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امابعد ! یہ شخص جس کا تم بکثرت ذکر کرتے ہو اس کے بارے میں بات یہ ہے کہ یہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے ، جو قیامت سے پہلے نکلیں گے ، اور ہر شہر میں دجال کا رعب پہنچ جائے گا ، صرف مدینہ منورہ میں نہیں پہنچے گا ، کیونکہ اس کے ہر ایک راستے پر دو فرشتے موجود ہوں گے ، جو اس شہر سے دجال کے رعب کو پرے کریں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12482
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح