مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَانَ عَلَى طَهَارَةٍ وَشَكَّ فِي الْحَدَثِ . باب: جو شخص با وضو ہو اور پھر اُسے حدث کے بارے میں شک ہو جائے شک ہو جائے
وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ ، فَأَبَسَ مِنْهُ كَمَا يَأْبِسُ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ ، فَإِذَا سَكَنَ لَهُ زَنَقَهُ أَوْ أَلْجَمَهُ " . ¤ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِكَ ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاهُ مَائِلًا ، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَتَرَاهُ فَاتِحًا فَاهُ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ . ¤اسی سند کے ساتھ ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص مسجد میں ہوتا ہے ، تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اُسے یوں ڈراتا ہے ، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کو ڈراتا ہے ، اور جب وہ شخص اُس کے سامنے پر سکون رہتا ہے ، تو وہ یا تو اسے تنگی کا شکار کرتا ہے یا اُسے لگام ڈال دیتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو تم لوگ یہ صورتحال پاتے ہو ، کوئی شخص ہوتا ہے جو مائل ہو رہا ہوتا ہے ، اور جس شخص کو لگام ڈالی گئی ہوتی ہے ، یہ وہ شخص ہے ، جسے تم دیکھتے ہو کہ اُس نے اپنا منہ کھولا ہوا ہوتا ہے ، اور وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا ہے ۔