مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَانَ عَلَى طَهَارَةٍ وَشَكَّ فِي الْحَدَثِ . باب: جو شخص با وضو ہو اور پھر اُسے حدث کے بارے میں شک ہو جائے شک ہو جائے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَ بِهِ كَمَا يَأْبِسُ بِدَابَّتِهِ ، فَإِذَا سَكَنَ لَهُ أَضْرَطَ بَيْنَ أَلْيَتَيْهِ لِيَفْتِنَهُ عَنْ صَلَاتِهِ ، فَإِذَا وَجَدَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ عَنْ أَبِي دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو ، تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اُسے ڈراتا ہے ، جس طرح آدمی اپنے جانوروں کو ڈراتا ہے ، اگر وہ شخص پرسکون رہے ، تو شیطان اس کی سرین کے درمیان ہوا خارج کرتا ہے ، تاکہ اس شخص کی توجہ نماز سے ہٹ جائے ، جب کوئی شخص اس طرح کی صورتحال پائے ، تو وہ نماز اُس وقت تک ختم نہ کرے ، جب تک وہ ( اپنی ہوا خارج ہونے کی ) آواز نہیں سنتا ، یا بو محسوس نہیں کرتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، یہ امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔