حدیث نمبر: 12461
قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ السَّلَامُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ " ، وَإِنَّ هَذَا عَرَفَنِي مِنْ بَيْنِكُمْ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ، " وَحَتَّى تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا فَلَا يُسْجَدُ لِلَّهِ فِيهَا ، وَحَتَّى يَبْعَثَ الْغُلَامُ الشَّيْخَ بَرِيدًا بَيْنَ الْأُفُقَيْنِ ، وَحَتَّى يَبْلُغَ التَّاجِرُ بَيْنَ الْأُفُقَيْنِ فَلَا يَجِدُ رِبْحًا " . ¤
محمد محی الدین


یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سلام صرف جان پہچان کے لوگوں کو نہیں کیا جائے گا ، اس شخص نے تمہارے درمیان میں سے صرف مجھے پہچانا تو مجھے سلام کر دیا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ) مساجد کو راستہ بنا لیا جائے گا ، ان میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ ایک لڑکا ایک بوڑھے شخص کو دور دراز کے علاقے میں ڈاکیے کے طور پر بھیجے گا ، یہاں تک کہ تاجر دور دراز کے علاقوں تک پہنچے گا لیکن اسے منافع نہیں ملے گا ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12461
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9490)»