مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى . باب: قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں کا بیان
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - جُلُوسًا ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : قَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ رَأَيْنَا النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ ، فَكَبَّرَ وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا وَمَشَيْنَا وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ . فَمَرَّ رَجُلٌ يُسْرِعُ فَقَالَ : عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ . فَقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ . فَلَمَّا صَلَّيْنَا وَرَجَعْنَا وَدَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ جَلَسْنَا ، فَقَالَ بَعْضُنَا : أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّهُ عَلَى الرَّجُلِ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ ؟ أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ ؟ فَقَالَ طَارِقٌ : أَنَا أَسْأَلُهُ ، فَسَأَلَهُ حِينَ خَرَجَ . فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ ، وَفُشُوَّ التِّجَارَةِ حِينَ تُعِينُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا [ عَلَى التِّجَارَةِ ] ، وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ ، وَشَهَادَةَ الزُّورِ ، وَكِتْمَانَ شَهَادَةِ الْحَقِّ ، وَظُهُورَ الْعِلْمِ " . ¤طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک شخص آیا ، اس نے کہا: نماز کھڑی ہو چکی ہے ۔ وہ کھڑے ہوئے ، ان کے ساتھ ہم بھی اٹھ گئے ، جب ہم مسجد میں داخل ہوئے تو ہم نے مسجد کے آگے والے حصے میں لوگوں کو رکوع کی حالت میں پایا ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے ، ہم نے بھی رکوع کر لیا ، پھر ہم چلتے ہوئے گئے ، ہم نے اس طرح کیا ، جس طرح انہوں نے کیا تھا ، اسی دوران ایک شخص تیزی سے گزرا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن السلام علیکم ! سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، اور اللہ کے رسولوں نے رسالت کی تبلیغ کر دی ہے ، جب ہم نے نماز ادا کر لی اور ہم واپس آ گئے ، تو وہ اپنے گھر واپس چلے گئے ، ہم باہر بیٹھ گئے ، ہم میں سے کسی نے کہا: کیا تم نے سنا نہیں کہ انہوں نے اس شخص کو جواب میں یہ کہا: تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، اللہ کے رسولوں نے تبلیغ کر دی ہے ، تو تم میں سے کون ان سے اس بارے میں دریافت کرے گا ، تو طارق بن شہاب نے کہا: میں ان سے پوچھوں گا ، جب وہ باہر تشریف لائے ، تو طارق نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کیا جائے گا ، اور تجارت پھیل جائے گی ، تجارت کے بارے میں عورت اپنے شوہر کی مدد کرے گی ، رشتے داری کے حقوق کو پامال کیا جائے گا ، جھوٹی گواہی دی جائے گی ، سچی گواہی کو چھپایا جائے گا اور علم کا ظہور ہو گا ۔ “