حدیث نمبر: 12445
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَجِيءُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ تَكُونُ وُجُوهُهُمْ وُجُوهَ الْآدَمِيِّينَ ، وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبَ الشَّيَاطِينِ ، أَمْثَالُ الذِّئَابِ الضَّوَارِي ، لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ شَيْءٌ مِنَ الرَّحْمَةِ ، سَفَّاكِينَ لِلدِّمَاءِ ، لَا يَرْعَوُونَ عَنْ قَبِيحٍ ، إِنْ تَابَعْتَهُمْ وَارَوْكَ ، وَإِنْ تَوَارَيْتَ عَنْهُمُ اغْتَابُوكَ ، وَإِنْ حَدَّثُوكَ كَذَبُوكَ ، وَإِنِ ائْتَمَنْتَهُمْ خَانُوكَ ، صَبِيُّهُمْ عَارِمٌ ، وَشَابُّهُمْ شَاطِرٌ ، وَشَيْخُهُمْ لَا يَأْمُرُ بِمَعْرُوفٍ وَلَا يَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ ، الِاعْتِزَازُ بِهِمْ ذُلٌّ ، وَطَلَبُ مَا فِي أَيْدِيهِمْ فَقْرٌ ، الْحَلِيمُ فِيهِمْ غَاوٍ ، وَالْآمِرُ فِيهِمْ بِالْمَعْرُوفِ مُتَّهَمٌ ، الْمُؤْمِنُ فِيهِمْ مُسْتَضْعَفٌ ، وَالْفَاسِقُ فِيهِمْ مُشَرَّفٌ ، السُّنَّةُ فِيهِمْ بِدْعَةٌ ، وَالْبِدْعَةُ فِيهِمْ سُنَّةٌ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُسَلِّطُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ ، وَيَدْعُو خِيَارُهُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب آخری زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے ، جن کے چہرے آدمیوں کے چہروں کی مانند ہوں گے ، اور ان کے دل شیاطین کے دلوں کی مانند ہوں گے وہ چیر پھاڑ کرنے والے بھیڑیوں کی مانند ہوں گے ، ان کے دلوں میں ذرا بھی رحمت نہیں ہو گی ، وہ بہت زیادہ خون بہانے والے ہوں گے ، ہر قبیح چیز کے مرتکب ہوں گے ، اگر تم ان کی پیروی کرو گے ، تو وہ تمہیں چھپا دیں گے ، اگر تم ان سے چھپ جاؤ گے ، تو وہ تمہاری غیبت کریں گے ، اگر وہ تمہارے ساتھ بات چیت کریں گے تو وہ تمہارے ساتھ جھوٹ بولیں گے ، اگر تم انہیں امین بناؤ گے ، تو وہ تمہارے ساتھ خیانت کریں گے ، ان کا بچہ گناہ گار ہو گا ، ان کا جوان شاطر ہو گا ، ان کا بوڑھا نہ نیکی کا حکم دے اور نہ برائی سے منع کرے گا ، ان کے حوالے سے عزت حاصل کرنا ، درحقیقت ذلت ہو گا اور جو کچھ ان کے پاس موجود ہے ۔ اس کے حصول کی خواہش غربت ہو گی ، ان کے درمیان بردبار شخص بہکا ہوا ہو گا ، اور ان کے درمیان نیکی کا حکم دینے والا شخص تہمت یافتہ ہو گا ، ان کے درمیان مومن شخص کمزور ہو گا ، اور ان کے درمیان فاسق شخص نمایاں حیثیت کا مالک ہو گا ، ان کے درمیان سنت ، بدعت شمار ہو گی اور ان کے درمیان بدعت ، سنت شمار ہو گی ، اس وقت اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر اپنے بدترین لوگوں کو مسلط کرے گا ، اس وقت ان کے نیک لوگ دعا کریں گے ، لیکن ان کی دعا قبول نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن معاویہ نیشاپوری ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12445
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً