مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَلَاحِمِ . باب: جنگوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بِمِصْرَ يَلِي سُلْطَانًا ، ثُمَّ يُغْلَبُ عَلَى سُلْطَانِهِ - أَوْ يُنْزَعُ مِنْهُ - فَيَفِرُّ إِلَى الرُّومِ ، فَيَأْتِي بِالرُّومِ إِلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَتِلْكَ أَوَّلُ الْمَلَاحِمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو النَّجْمِ صَاحِبُ أَبِي ذَرٍّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ فِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب بنوامیہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مصر میں حکمران بنے گا ، پھر اس کی حکومت کو مغلوب کر دیا جائے گا یا اس کی حکومت کو الگ کر دیا جائے گا ، پھر وہ فرار ہو کر روم کی طرف چلا جائے گا ، پھر وہ رومیوں کو ساتھ لے کر اہل اسلام کی طرف آئے گا ، تو وہ جنگوں کا آغاز ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے شاگرد ابونجم ہیں ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اس میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔