حدیث نمبر: 12413
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَنْ يَسَارِهِ وَالْعَبَّاسُ عَنْ يَمِينِهِ ، إِذْ تَلَاحَى الْعَبَّاسُ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَغْلَظَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْعَبَّاسِ . فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِ الْعَبَّاسِ وَيَدِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " سَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِ هَذَا فَتًى يَمْلَأُ الْأَرْضَ جَوْرًا وَظُلْمًا ، وَسَيَخْرُجُ مِنْ هَذَا فَتًى يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَعَلَيْكُمْ بِالْفَتَى التَّمِيمِيِّ فَإِنَّهُ يُقْبِلُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَهُوَ صَاحِبُ رَايَةِ الْمَهْدِيِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ لِينٌ ، وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ مُنْكَرٌ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ يَسْتَقْبِلُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ ، وَخَاصَّةً عَمَّهُ الْعَبَّاسَ الَّذِي قَالَ فِيهِ : إِنَّهُ صِنْوُ أَبِيهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تشریف فرما تھے ۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں طرف تھے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں طرف تھے ، اسی دوران سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے درمیان تکرار ہو گئی ، انصاری نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور ارشاد فرمایا : ان کی اولاد میں سے ایک شخص نکلے گا ، جو زمین کو ظلم و ستم سے بھر دے گا ، اور پھر ان کی اولاد میں سے ایک شخص نکلے گا ، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ، جب تم یہ صورت حال دیکھو تو تم پر لازم ہے کہ تمیم قبیلے کے نوجوان کے ساتھ رہو کیونکہ وہ مشرق کی طرف سے آئے گا ، اور وہ مہدی کا علمبردار ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، تاہم
یہ روایت منکر ہے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی شخص کے ساتھ اس طرح سامنا نہیں کرتے تھے کہ آپ کے چہرے سے ناگواری کا اظہار ہو رہا ہو ، اور بطور خاص اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا تو خاص کر خیال رکھتے تھے ، جن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ وہ میرے والد کی جگہ ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12413
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منکر
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (287)»