حدیث نمبر: 12404
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ نَائِمًا فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَانْتَبَهَ وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِمَّ تَسْتَرْجِعُ ؟ قَالَ : " مِنْ قِبَلِ جَيْشٍ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ فِي طَلَبِ رَجُلٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ، يَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ ، فَإِذَا عَلَوُا الْبَيْدَاءَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ خُسِفَ بِهِمْ ، فَلَا يُدْرِكُ أَعْلَاهُمْ أَسْفَلَهُمْ وَلَا يُدْرِكُ أَسْفَلُهُمْ أَعْلَاهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُخْسَفُ بِهِمْ مصَادِرُهُمْ شَتَّى ؟ قَالَ : " إِنَّ فِيهِمْ أَوْ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ الْحَكَمِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ ذَكَرَهُ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

اسی سند کے ساتھ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت نقل کی گئی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں سوئے ہوئے تھے ، آپ بیدار ہوئے تو آپ نے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھنا شروع کر دیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ پڑھ رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک لشکر کی وجہ سے جو عراق کی طرف سے مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی تلاش میں آئے گا اور انہیں اس شخص تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا ، جب وہ ذوالحلیفہ میں بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا ، ان کے اوپر والے ، نیچے والوں تک نہیں پہنچ سکیں گے اور نیچے والے اوپر والوں تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ ایسا قیامت کے دن تک ہو گا حالانکہ ان کی آمد کا مقصد مختلف ہو گا ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! سب کو دھنسا دیا جائے گا ۔ جب کہ ان سب کی آمد کا مقصد مختلف ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے ، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن حکم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، البتہ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے نہ اس پر جرح کی ہے اور نہ اس کی توثیق کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3328)»