حدیث نمبر: 12390
وَفِي رِوَايَةٍ لَا تَدَعُ مُضَرُ عَبْدًا لِلَّهِ مُؤْمِنًا إِلَّا فَتَنُوهُ أَوْ قَتَلُوهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ وَالْبَزَّارُ مِنْ طُرُقٍ ، وَفِي بَعْضِهَا قَالَ حُذَيْفَةُ : ادنوا يَا مَعَاشِرَ مُضَرَ ، فَوَاللَّهِ لَا تَزَالُونَ بِكُلِّ مُؤْمِنٍ تَفْتِنُوهُ وَتَقْتُلُوهُ أَوْ لَيَضْرِبَنَّكُمُ اللَّهُ وَمَلَائِكَتُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا تَمْنَعُوا بَطْنَ تَلْعَةٍ . قَالُوا : فَلِمَ قَدِمْتَنَا وَنَحْنُ كَذَلِكَ ؟ قَالَ : إِنَّ مِنْكُمْ سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنَّ مِنْكُمْ سَوَابِقَ كَسَوَابِقِ الْخَيْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” مضر قبیلے کے لوگ اللہ تعالیٰ کے کسی مومن بندے کو نہیں چھوڑیں گے ، مگر یہ کہ اسے یا تو آزمائش کا شکار کر دیں گے ، یا اسے قتل کر دیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام بزار نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے مضر قبیلے کے لوگو ! قریب آ جاؤ ، اللہ کی قسم ! تم ہمیشہ ہر مومن کو آزمائش کا شکار کرتے رہو گے اور اسے قتل کرتے رہو گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور اہل ایمان تم پر ضرب لگائیں گے ، یہاں تک کہ تم کسی وادی کے نشیبی حصے میں بھی رکاوٹ نہیں بن سکو گے ، لوگوں نے کہا: جب ہماری یہ صورت حال ہے ، تو آپ نے ہمیں آگے کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کی وجہ یہ ہے کہ تم میں سے سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد کے سردار ہوئے ہیں اور تم میں سے سبقت لے جانے والے لوگ ہوئے ہیں ، جس طرح گھڑ دوڑ میں آگے نکلنے والے گھوڑے ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی مختلف اسانید اور امام بزار کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12390
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (395/5)»