مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ مِنْهُ فِي فِتْنَةِ الْعَجَمِ . باب: عجمیوں کے فتنوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدَّيْلِيِّ قَالَ : أَسْلَمْتُ أَنَا وَزُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ مَعَ الْأَشْعَرِيِّ ، فَلَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو . قَالَ : فَجَلَسْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَجَلَسَ زُرْعَةُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : يُوشِكُ أَنْ لَا يَبْقَى فِي أَرْضِ الْعَرَبِ مِنَ الْعَجَمِ إِلَّا قَتِيلٌ أَوْ أَسِيرٌ يَحْكُمُ فِي دَمِهِ . فَقَالَ لَهُ زُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ : أَيَظْهَرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ بِنَاءً أَوْ بَيْتًا كَانَ يُسَمَّى فِي الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ : فَذَكَرْتُ لِعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ عُمَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ . قَالَ : فَخَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ " . قَالَ : فَذَكَرْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : صَدَقَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَاءَ ذَاكَ كَانَ الَّذِي قُلْتُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ أَبِي سَعِيدٍ فَإِنْ كَانَ هُوَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ فَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابواسود دیلی بیان کرتے ہیں : میں نے اور زرعہ بن ضمرہ نے اشعری کے ہمراہ اسلام قبول کیا ، ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، راوی کہتے ہیں : میں ان کے دائیں طرف بیٹھ گیا اور زرعہ ان کی بائیں طرف بیٹھ گئے ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” عنقریب عرب کی سرزمین پر عجمیوں میں سے کوئی شخص باقی نہیں رہے گا ، صرف کوئی مقتول ہو گا یا کوئی قیدی ہو گا ، جس کے خون کا فیصلہ دیا جانا ہو گا“ تو زرعہ بن ضمرہ نے ان سے کہا: کیا مشرکین اہل اسلام پر غالب آ جائیں گے ؟ انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے بتایا : بنو عامر بن صعصہ سے ، جنہوں نے ذی خلصہ بنایا تھا ، اس گھر یا تعمیر کو زمانہ جاہلیت میں یہ نام دیا گیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا : عبداللہ بن عمرو جو کہتا ہے وہ اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہو گا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر جمعہ کے دن انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے : ” میری امت کا ایک گروہ مسلسل حق پر گامزن رہے گا ، اُن کی مدد کی جاتی رہے گی ، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، جب یہ صورت حال ہو جائے گی تو پھر وہی ہو گا ، جو میں نے بیان کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ کی نے اپنے استاد ابوسعید کے حوالے سے نقل کی ہے ، اگر تو یہ بنو ہاشم سے نسبت ولاء رکھتا ہے ، تو پھر اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔