مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ مِنْهُ فِي فِتْنَةِ الْعَجَمِ . باب: عجمیوں کے فتنوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُقَاتِلُونَ قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ صِغَارَ الْأَعْيُنِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، وَكَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ ، يَبْتَلِعُونَ الشَّعَرَ ، وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ ، يَرْبُطُونَ خُيُولَهُمْ بِالنَّخْلِ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ ایسی قوم کے ساتھ جنگ کرو گے ، جن کے چہرے چوڑے ہوں گے ، آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، ان کے چہرے تہہ والی ڈھالوں کی مانند ہوں گے اور ان کی آنکھیں ٹڈی دل کی طرح ہوں گی ، وہ بالوں سے بنے ہوئے جوتے پہنتے ہوں گے اور وہ چمڑے کی ڈھالیں رکھیں گے ، اور وہ اپنے گھوڑوں کو کھجور کے درختوں کے ساتھ باندھیں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ۔