مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ مِنْهُ فِي فِتْنَةِ الْعَجَمِ . باب: عجمیوں کے فتنوں کا بیان
حدیث نمبر: 12377
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ ، ثُمَّ يَجْعَلُهُمْ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ ، يَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَيُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے عجمیوں کو بھر دے گا ، پھر وہ انہیں شیر بنا دے گا ، وہ فرار اختیار نہیں کریں گے ، وہ تمہارے جنگجو لوگوں کو قتل کریں گے اور وہ تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالقدوس ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اور ایک راوی یونس بن خباب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔