مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ . باب: فتنوں میں کیا ہو گا ؟
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيُصِيبُ أُمَّتِي دَاءُ الْأُمَمِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا دَاءُ الْأُمَمِ ؟ قَالَ : " الْأَشَرُ وَالْبَطَرُ وَالتَّدَابُرُ وَالتَّنَافُسُ وَالتَّبَاغُضُ وَالْبُخْلُ حَتَّى يَكُونَ الْبَغْيُ ثُمَّ الْهَرْجُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْغِفَارِيُّ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میری امت کو دوسری امتوں کی بیماریاں لاحق ہوں گی ، لوگوں نے عرض کی : دوسری امتوں کی بیماریاں کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تکبر ، خود پسندی ، مقابلے بازی ، ایک دوسرے سے بغض ، بخل ، یہاں تک کہ سرکشی ہو گی ، پھر قتل و غارتگری ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید غفاری ہے ، حمید بن ہانی کے علاوہ کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔