مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ آخِذًا قَاتِلَهُ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا عِنْدَ ذِي الْعِزَّةِ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ فَيَقُولُ : فِيمَ قَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : قَتَلْتُهُ لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لِفُلَانٍ . قِيلَ : هِيَ لِلَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( قیامت کے دن ) مقتول آئے گا ، اُس نے اپنے قاتل کو پکڑا ہوا ہو گا اور اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہو گا ، وہ رب العزت کی بارگاہ میں آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! تو اس سے پوچھ ! کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ اللہ تعالیٰ اس شخص سے فرمائے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ تو قاتل جواب دے گا : میں نے اس لئے اسے قتل کیا تھا تاکہ غلبہ فلاں شخص کو مل جائے ، تو اس سے کہا: جائے گا : غلبہ تو اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فیض بن وثیق ہے اور وہ کذاب ہے ۔