حدیث نمبر: 12305
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ آخِذًا قَاتِلَهُ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا عِنْدَ ذِي الْعِزَّةِ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي ؟ فَيَقُولُ : فِيمَ قَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : قَتَلْتُهُ لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لِفُلَانٍ . قِيلَ : هِيَ لِلَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( قیامت کے دن ) مقتول آئے گا ، اُس نے اپنے قاتل کو پکڑا ہوا ہو گا اور اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہو گا ، وہ رب العزت کی بارگاہ میں آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! تو اس سے پوچھ ! کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ اللہ تعالیٰ اس شخص سے فرمائے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ تو قاتل جواب دے گا : میں نے اس لئے اسے قتل کیا تھا تاکہ غلبہ فلاں شخص کو مل جائے ، تو اس سے کہا: جائے گا : غلبہ تو اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فیض بن وثیق ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12305
درجۂ حدیث محدثین: موضوع