مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ حُرْمَةِ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالِهِمْ وَإِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا . باب: مسلمانوں کے خون ( یعنی جانوں ) اور ان کے اموال کی حرمت کا بیان اور جو شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ، اس کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 12294
وَعَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ، فَلَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں دوسری اُمتوں کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کا اظہار کروں گا ، تو تم میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔