مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَيَّامِ الصَّبْرِ وَفِيمَنْ يَتَمَسَّكُ بِدِينِهِ فِي الْفِتَنِ . باب: صبر والے دنوں کا بیان اور اس شخص کا بیان جو فتنوں کے دوران اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ الصَّلَاةُ فِيهِ طَوِيلَةٌ ، وَالْخُطْبَةُ فِيهِ قَصِيرَةٌ ، وَعُلَمَاؤُهُ كَثِيرٌ ، وَخُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ ، وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّلَاةُ فِيهِ قَصِيرَةٌ ، وَالْخُطْبَةُ فِيهِ طَوِيلَةٌ ، خُطَبَاؤُهُ كَثِيرٌ ، وَعُلَمَاؤُهُ قَلِيلٌ ، يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعَشِيِّ إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيُصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَلْيَجْعَلْهَا مَعَهُمْ تَطَوُّعًا ، إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ يُغْبَطُ فِيهِ الرَّجُلُ عَلَى قِلَّةِ عِيَالِهِ وَخِفَّةِ حَاذِهِ ، مَا أَدَعُ بَعْدِي فِي أَهْلِي أَحَبَّ إِلَيَّ مَوْتًا مِنْهُمْ وَلَا أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْجُعْلَانِ ، وَإِنِّي لَأُحِبُّهُمْ كَمَا تُحِبُّونَ أَهْلِيكُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الزُّهْدِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْعِلْمِ نَحْوُهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ” تم لوگ ایسے زمانے میں ہو ، جس میں نماز طویل ادا کی جاتی ہے اور خطبہ مختصر دیا جاتا ہے ، اس زمانے کے علماء بہت زیادہ ہیں اور خطیب کم ہیں ، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں نماز مختصر ادا کی جائے گی اور خطبہ طویل دیا جائے گا ، اس زمانے میں خطیب زیادہ ہوں گے اور علماء کم ہوں گے ، وہ لوگ نمازیں تاخیر سے ادا کریں گے ، یہاں تک کہ وہ عصر کی نماز اس وقت ادا کریں گے جب سورج کی روشنی کمزور ہو چکی ہو گی ، تم میں سے جو شخص وہ زمانہ پائے ، وہ نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کر لے اور ان لوگوں کے ساتھ ادا کی جانے والی اپنی نماز کو نفل قرار دیدے ، تم لوگ ایک ایسے زمانے میں ہو ، جس میں ایسے شخص پر رشک کیا جاتا ہے ، جس کے بال بچے کم ہوں اور اخراجات کم ہوں ، میں اپنے بعد اپنے اہل خانہ کے لئے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا ، جو میرے نزدیک ان کے لئے موت سے زیادہ محبوب ہو ، اور نہ ہی جعلان سے زیادہ کوئی گھرانہ چھوڑوں گا ، میں ان سے اسی طرح محبت کرتا ہوں ، جس طرح تم اپنے اہل خانہ سے محبت رکھتے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس کا ایک طریق کتاب الزہد میں گزر چکا ہے ، اس سے پہلے کتاب العلم میں اس کی مانند روایت گزر چکی ہے ۔