حدیث نمبر: 12209
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عُلَاثَةَ ، وَأَنَّهَا هَلَكَتْ فَحَمَلَهَا إِلَى الْمَقَابِرِ ، فَحَالَ إِخْوَتُهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ لَهُمْ : لَا تَفْعَلُوا ، فَإِنِّي أَحَقُّ بِالصَّلَاةِ مِنْكُمْ . قَالُوا : صَدَقَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهَا . ثُمَّ إِنَّهُ دَخَلَ الْقَبْرَ فَدَفَعُوهُ دَفْعًا عَنِيفًا فَوَقَعَ فَغُشِيَ عَلَيْهِ ، فَحُمِلَ إِلَى أَهْلِهِ فَصَرَخَ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ عِشْرُونَ مِنِ ابْنٍ وَبِنْتٍ لَهُ . قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مِنْ أَصْغَرِهِمْ ، فَأَفَاقَ إِفَاقَةً ، فَقَالَ لَهُمْ : لَا تَصْرُخُوا عَلَيَّ ، فَوَاللَّهِ مَا مِنْ نَفْسٍ تَخْرُجُ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِ أَبِي بَكْرَةَ . فَفَزِعَ الْقَوْمُ فَقَالُوا : لِمَ يَا أَبَانَا ؟ قَالَ : إِنِّي أَخْشَى أَنْ أُدْرِكَ زَمَانًا لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا أَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ وَلَا خَيْرَ يَوْمَئِذٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالعزیز بن ابوبکرہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بنو علاثہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ شادی کی ، اس خاتون کا انتقال ہو گیا ، وہ ان کی میت اٹھا کے قبرستان آئے ، اس خاتون کے بھائی اس بات میں رکاوٹ بن گئے کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں ، سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا: تم لوگ ایسا نہ کرو ! کیونکہ تمہارے مقابلے میں ، میں نماز پڑھانے کا زیادہ حق رکھتا ہوں ، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول کے صحابی ٹھیک کہہ رہے ہیں ، سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کی نماز جنازہ پڑھائی ، پھر وہ قبر میں داخل ہونے لگے تو اس کے بھائیوں نے انہیں ہلکا سا دھکا دیا ، وہ گر گئے ، پھر انہیں اٹھا کر ان کے اہل خانہ کے پاس لایا گیا ، تو اس دن ان کے بیس بیٹوں اور بیٹیوں نے ان کے لے چیخ و پکار کی ۔ عبدالعزیز نامی راوی کہتے ہیں : میں اُس وقت ان میں سب سے کمسن تھا ، جب سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا ، تو انہوں نے ان لوگوں سے کہا: تم لوگ مجھ پر چیخ و پکار نہ کرو ! اللہ کی قسم ! کسی بھی سانس کا نکل جانا ، میرے نزدیک ، ابوبکرہ کی سانس نکل جانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، تو لوگ پریشان ہو گئے ، انہوں نے ان سے دریافت کیا : اے ہمارے ابا جان ! اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں ایسے زمانے تک پہنچ جاؤں گا ، جس میں ، میں نیکی کا حکم نہیں دے سکوں گا اور برائی سے منع نہیں کر سکوں گا اور اس وقت میں کوئی بھلائی نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12209
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح