مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ الْكَلَامِ بِالْحَقِّ عِنْدَ الْحُكَّامِ . باب: حکمرانوں کے سامنے حق کے مطابق بات چیت کرنا
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجِرَاحِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ بِمَعْرُوفٍ وَنَهَاهُ عَنْ مُنْكَرٍ فَقَتَلَهُ " . قِيلَ : فَأَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ عَذَابًا ؟ قَالَ : " رَجُلٌ قَتَلَ نَبِيًّا أَوْ قَتَلَ رَجُلًا أَمَرَهُ بِمَعْرُوفٍ وَنَهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ " . ثُمَّ قَرَأَ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ، قَتَلَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ ثَلَاثَةً وَأَرْبَعِينَ نَبِيًّا فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ ، فَقَامَ مِائَةُ رَجُلٍ وَاثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ عُبَّادِ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ فَقُتِلُوا جَمِيعًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مِمَّنْ لَمْ أَعْرِفْهُ اثْنَانِ . ¤سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شہداء میں ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز کون ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص جو کسی ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہو اور اسے نیکی کا حکم دے یا اسے برائی سے منع کرے اور وہ حکمران اسے قتل کروا دے ، عرض کی گئی : لوگوں میں سب سے زیادہ شدید عذاب کسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جس نے کسی نبی کو شہید کیا ہو ، یا کسی ایسے شخص کو قتل کیا ہو ، جس نے اسے کسی نیکی کا حکم دیا ہو ، یا اسے برائی سے منع کیا ہو ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور وہ لوگ انبیاء کو ناحق طور پر قتل کر دیتے ہیں اور وہ ان لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں ، جو لوگوں میں سے انصاف کے مطابق حکم دیتے ہیں ، تو تم انہیں دردناک عذاب کی اطلاع دے دو ! “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوعبیدہ ! بنی اسرائیل نے تینتالیس انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک ہی وقت میں شہید کر دیا تھا اور بنی اسرائیل میں سے ایک سو بارہ افراد جو عبادت گزار تھے ، وہ اُٹھے انہوں نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا ، تو ان سب کو قتل کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔