حدیث نمبر: 12119
وَعَنْ دُرَّةَ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَتْ : قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ أَقْرَؤُهُمْ وَأَتْقَاهُمْ وَآمَرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَهَذَا لَفَظَهُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ : قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَجِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّهُ نَادَاهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَتْ : فَأَتَى الرَّجُلُ فَأُخِذَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ لِي ذَنْبٌ أَمَرَنِي فُلَانٌ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین

سیده دُرّه بنت ابولہب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگوں میں کون شخص سب سے بہتر ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ عالم ہو ، سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے والا ہو ، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والا ہو ، اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی ، اسی دوران ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے بلند آواز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگوں میں کون زیادہ بہتر ہے ؟ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : ایک شخص آیا ، اس کو پکڑا گیا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا کوئی گناہ نہیں ہے ، مجھے فلاں شخص نے یہ کہا: تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (257/24) اخرجه احمد فى المسند (431/6)»