مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي أَهْلِ الْمَعْرُوفِ وَأَهْلِ الْمُنْكَرِ . باب: نیکی والوں اور برائی والوں کا بیان
حدیث نمبر: 12116
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ ، وَأَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ الْفَرَوِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي الْآخَرِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا میں نیکی والے ، آخرت میں نیکی والے ہوں گے اور دنیا میں برائی والے ، آخرت میں برائی والے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہارون فروی ہے اور وہ ضعیف ہے ، دوسری روایت میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔