حدیث نمبر: 12095
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : ذُكِرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهُ نِكَايَةٌ فِي الْعَدُوِّ وَاجْتِهَادٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَعْرِفُ هَذَا " . قَالَ : بَلْ نَعْتُهُ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : " مَا أَعْرِفُهُ " . فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : هُوَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَا كُنْتُ أَعْرِفُ هَذَا ، هَذَا أَوَّلُ قَرْنٍ رَأَيْتُهُ فِي أُمَّتِي ، إِنَّ فِيهِ لَسَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ " . فَلَمَّا دَنَا الرَّجُلُ سَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ ، هَلْ حَدَّثْتَ نَفْسُكَ حِينَ طَلَعْتَ عَلَيْنَا أَنْ لَيْسَ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكَ ؟ " . قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ : فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأَبِي بَكْرٍ : " قُمْ فَاقْتُلْهُ " . فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ ، فَوَجَدَهُ قَائِمًا يُصَلِّي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي نَفْسِهِ : إِنَّ لِلصَّلَاةِ حُرْمَةً وَحَقًّا ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَأْمَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَجَاءَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَتَلْتَهُ ؟ " . قَالَ : لَا ، رَأَيْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي ، وَرَأَيْتُ لِلصَّلَاةِ حُرْمَةً وَحَقًّا ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَقْتُلَهُ قَتَلْتُهُ ؟ قَالَ : " لَسْتَ بِصَاحِبِهِ ، اذْهَبْ أَنْتَ يَا عُمَرُ فَاقْتُلْهُ " . فَدَخَلَ عُمَرُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ ، فَانْتَظَرَهُ طَوِيلًا ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ فِي نَفْسِهِ : إِنَّ لِلسُّجُودِ حَقًّا ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَأْمَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِ اسْتَأْمَرَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي . فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَقَتَلْتَهُ ؟ " . قَالَ : لَا ، رَأَيْتُهُ سَاجِدًا ، وَرَأَيْتُ لِلسُّجُودِ حَقًّا ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَقْتُلَهُ قَتَلْتُهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَسْتَ بِصَاحِبِهِ ، قُمْ يَا عَلِيُّ أَنْتَ صَاحِبُهُ إِنْ وَجَدْتَهُ " . فَدَخَلَ ، فَوَجَدَهُ قَدْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَقَتَلْتَهُ ؟ " . قَالَ : لَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قُتِلَ مَا اخْتَلَفَ رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ " . ¤ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْأُمَمِ فَقَالَ : " تَفَرَّقَتْ أُمَّةُ مُوسَى عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، سَبْعُونَ مِنْهَا فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ . وَتَفَرَّقَتْ أُمَّةُ عِيسَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، إِحْدَى وَسَبْعُونَ مِنْهَا فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَتَعْلُو أُمَّتِي عَلَى الْفِرْقَتَيْنِ جَمِيعًا بِمِلَّةٍ ، اثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجَمَاعَاتُ " . ¤ قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ : وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَلَا مِنْهُ قُرْآنًا وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ ¤ ثُمَّ ذَكَرَ أُمَّةَ عِيسَى فَقَالَ : وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ ¤ ثُمَّ ذَكَرَ أُمَّتَنَا فَقَالَ : وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي قِتَالِ الْخَوَارِجِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا ، جو عبادت و ریاضت میں بڑا اہتمام کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اسے نہیں پہچانا ، راوی نے عرض کی : اس کا حلیہ اس اس طرح کا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اسے نہیں پہچانا ، راوی بیان کرتے ہیں ، اسی دوران وہ شخص سامنے آ گیا ، تو راوی نے کہا: یہ وہ شخص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اسے نہیں پہچانا تھا ، یہ وہ پہلا سینگ ہے ، جسے میں اپنی امت میں دیکھ رہا ہوں اور اس میں شیطان کا داغ موجود ہے ، جب وہ شخص قریب آیا تو اس نے سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : جب تم ہمارے سامنے آئے تھے ، تو کیا تم نے من میں یہ سوچا تھا کہ ان سب لوگوں میں کوئی بھی تم سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ؟ اس نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے جی ہاں ! ۔ پھر وہ شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز ادا کرنا شروع کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اٹھو اور اسے قتل کر دو ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر گئے ، انہوں نے اس شخص کو کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے پایا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دل میں سوچا کہ نماز کی ایک مخصوص حرمت اور حق ہے ، اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ اس بارے میں معلوم کر لوں تو یہ مناسب ہو گا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : کیا تم نے اسے قتل کر دیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا ، تو میں نے یہ سوچا کہ نماز کی حرمت اور مخصوص حق ہوتا ہے ، اگر آپ یہ چاہیں کہ میں اسے قتل کر دوں ، تو میں اسے قتل کر دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے متعلقہ فرد نہیں ہو ، اے عمر ! تم جاؤ اور اسے قتل کر دو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ، تو وہ شخص سجدے کی حالت میں تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا خاصی دیر انتظار کیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے من میں سوچا کہ سجدے کا مخصوص حق ہوتا ہے ، اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ اس بارے میں معلوم کر لوں تو یہ مناسب ہو گا ، کیونکہ ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ معلوم کیا تھا ، جو مجھ سے بہتر ہیں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے قتل کر دیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! میں نے اسے سجدے کی حالت میں دیکھا ، تو میں نے یہ سوچا کہ سجدے کا مخصوص حق ہوتا ہے ، لیکن اگر آپ چاہیں کہ میں اسے قتل کر دوں ، تو میں اسے قتل کر دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے متعلقہ فرد نہیں ہو ، اے علی ! تم اس کے متعلقہ فرد ہو ، اگر تم نے اسے پا لیا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے ، تو انہوں نے اس شخص کو پایا کہ وہ مسجد سے جا چکا تھا ، وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے قتل کر دیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر شخص قتل ہو جاتا تو دجال کے نکلنے تک میری امت کے دو آدمیوں نے بھی اختلاف نہیں کرنا تھا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اُمتوں کے بارے میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی امت اکہتر گروہوں میں تقسیم ہو گئی تھی ، جن میں سے ستر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت بہتر گروہوں میں تقسیم ہو گئی تھی ، جن میں سے اکہتر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت ان دونوں گروہوں پر ایک فرقے کے حوالے سے غالب ہو گی ، ان میں سے بہتّر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ ( یعنی جنت میں جانے والے ) کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جماعت ۔ یعقوب بن زید بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے تھے ، تو اُس کے ساتھ قرآن کی یہ آیت بھی تلاوت کرتے تھے : ” اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ایسا تھا جو حق کے مطابق رہنمائی کرتا تھا اور اس کے مطابق فیصلے کرتا تھا ۔ “ پھر جب انہوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت کا ذکر کیا ، تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور اگر اہل کتاب ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ) ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے ، تو ہم نے ان سے ان کے گناہ دور کر دینے تھے اور انہیں نعمتوں والی جنت میں داخل کر دینا تھا ۔ “ پھر جب انہوں نے ہماری اُمت کا ذکر کیا تو یہ آیت تلاوت کی : ” اور جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے ان میں ایک گروہ ایسا ہے ، جو حق کے مطابق رہنمائی کرتے ہیں اور اس ( حق ) کے مطابق عدل ( یا فیصلے ) کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے خوارج کے ساتھ جنگ کرنے سے متعلق باب میں ، اس حدیث کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12095
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف