مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ أَيْضًا : عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلًا ، وَإِنَّ لِأُمَّتِي مِائَةَ سَنَةٍ ، فَإِذَا مَرَّتْ عَلَى أُمَّتِي مِائَةُ سَنَةٍ أَتَاهَا مَا وَعَدَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - " . قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ : يَعْنِي كَثْرَةَ الْفِتَنِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيجُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو أَوْ حَدِيجُ بْنُ عَمْرٍو كَمَا هُوَ فِي إِحْدَى رِوَايَتَيِ الطَّبَرَانِيِّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَلَكِنِ ابْنُ لَهِيعَةَ ضَعِيفٌ . ¤امام طبرائی کی ایک روایت ، جو سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ، اس میں یہ مذکور ہے : وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر امت کی ایک مخصوص مدت ہوتی ہے اور میری امت کی مخصوص مدت ایک سوسال ہے ، جب میری امت پر ایک سو سال گزر جائیں گے ، تو ان پر وہ چیز آ جائے گی ، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے ۔ “ ابن لہیعہ کہتے ہیں : اس سے مراد فتنوں کا زیادہ ہونا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور ایک راوی حدیج بن ابوعمرو ہے ، یا حدیج بن عمرو ہے ، جیسا کہ طبرانی کی دو روایات میں سے ایک میں یہ بات مذکور ہے ، اس راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن ابن لہیعہ ضعیف ہے ۔