حدیث نمبر: 11981
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قَوْلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، فَلَمْ نَحْسَبْ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى نَزَلَتْ فِينَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيَهِمُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم اس فتنے سے ڈرو ! جو بطور خاص ان لوگوں کو لاحق ہو گا کہ تم میں سے جنہوں نے ظلم کیا ہو ۔ “ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہم اس بارے میں بات چیت کیا کرتے تھے اور ہم یہ نہیں گمان کرتے تھے کہ ہم اس کے متعلقہ لوگ ہوں گے یہاں تک کہ یہ فتنہ ہمارے درمیان نازل ہو گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 11981
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3266)»