مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ . باب: مشرکین کی اولاد کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَأَلْتُ رَبِّي عَنِ اللَّاهِينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ الْبَشَرِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ فَأَعْطَانِيهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُتَوَكِّلِ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَفْظُهَا " سَأَلْتُ اللَّهَ اللَّاهِينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ الْبَشَرِ فَأَعْطَانِيهِمْ " . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي تَفْسِيرِ اللَّاهِينَ فِي بَابِ الْأَطْفَالِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے اپنے پروردگار سے بنی نوع انسان کے بچوں کے بارے میں یہ دعا کی کہ وہ انہیں عذاب نہیں دے گا ، تو اس نے یہ چیز مجھے عطا کر دی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن متوکل کا معاملہ مختلف ہے اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” میں نے اللہ تعالیٰ سے بنی نوع انسان کے بچوں کے بارے میں دعا کی ، تو اللہ تعالیٰ نے وہ چیز مجھے عطا کر دی ۔ “ اس سے پہلے بچوں سے متعلق باب میں لفظ ” لا ہین “ کی وضاحت گزر چکی ہے ۔