مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَمْ تَبْلُغْهُ الدَّعْوَةُ مِمَّنْ مَاتَ فِي فَتْرَةٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: جس شخص تم دعوت نہ پہنچی ہو ، یعنی جس کا انتقال زمانہ فترت میں ہو گیا ہو یا اس کے علاوہ ( کوئی اور وجہ ) ہو
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرْبَعَةٌ يَحْتَجُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَجُلٌ أَصَمُّ لَا يَسْمَعُ شَيْئًا ، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ ، وَرَجُلٌ هَرِمٌ ، وَرَجُلٌ مَاتَ فِي فَتْرَةٍ ، فَأَمَّا الْأَصَمُّ فَيَقُولُ : لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا ، وَأَمَّا الْأَحْمَقُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَالصِّبْيَانُ يَخْذِفُونِي بِالْبَعْرِ ، وَأَمَّا الْهَرِمُ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَعْقِلُ شَيْئًا ، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي فَتْرَةٍ فَيَقُولُ : مَا أَتَانِي لَكَ رَسُولٌ فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعُنَّهُ ، فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا كَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يُعْرَضُ عَلَى اللَّهِ الْأَصَمُّ الَّذِي لَا يَسْمَعُ شَيْئًا وَالْأَحْمَقُ وَالْهَرِمُ وَرَجُلٌ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَذَكَرَ بَعْدَهُ إِسْنَادًا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ : " فَمَنْ دَخَلَهَا كَانَتْ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْهَا يُسْحَبُ إِلَيْهَا " ، هَذَا لَفْظُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ فِي طَرِيقِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الْبَزَّارِ فِيهِمَا . ¤سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چار قسم کے لوگ ، قیامت کے دن دلیل پیش کریں گے ، ایک وہ بہرا شخص ، جو کوئی چیز نہ سنتا ہو ، ایک وہ شخص جس کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو ، ایک وہ شخص جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا ہو ، جہاں تک بہرے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ یہ کہے گا : اسلام آ گیا تھا ، لیکن میں تو کوئی چیز سنتا ہی نہیں تھا ، جہاں تک ذہنی توازن کی خرابی والے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اسلام جب آیا تھا ، تو بچے مجھے مینگنیاں مارا کرتے تھے ، جہاں تک انتہائی بوڑھے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! جب اسلام آیا تھا ، تو مجھے کسی چیز کی سمجھ بوجھ ہی نہیں رہی تھی ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا تھا ، تو وہ کہے گا : میرے پاس تیرا رسول نہیں آیا ، پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے عہد لے گا کہ وہ اس کی ضرور اطاعت کریں گے ، پھر اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو حکم دے گا کہ تم لوگ جہنم میں داخل ہو جاؤ ! “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر وہ لوگ جہنم میں داخل ہو جائیں ، تو وہ اُن کے لئے ٹھنڈک والی اور سلامتی والی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ بہرا شخص آئے گا ، جو کوئی چیز نہ سنتا ہو اور پاگل آئے گا اور انتہائی بوڑھا آئے گا اور وہ شخص آئے گا ، جو زمانہ فترت میں مر گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کے بعد انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک اس کی ایک اور سند نقل کی ہے اور دونوں کے بارے میں یہ کہا: ہے کہ اس کی مانند روایت منقول ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” جو شخص اس ( جہنم ) میں داخل ہو جائے گا ، تو وہ اُس کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گی ، اور جو شخص اس میں داخل نہیں ہو گا ، اسے گھسیٹ کر اس کی طرف لے جایا جائے گا ۔ “ روایت کے یہ الفاظ امام أحمد کے نقل کردہ ہیں اور سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، ان دونوں کے بارے میں امام بزار کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔