حدیث نمبر: 11932
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا طَهَّرَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا طَهُورُ الْعَبْدِ ؟ قَالَ : " عَمَلٌ صَالِحٌ يُلْهِمُهُ إِيَّاهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ وَفِي بَعْضِهَا " عَسَلَهُ " بَدَلَ " طَهَّرَهُ " ، وَفِي إِحْدَى طُرُقِهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کی موت سے پہلے اسے پاک کر دیتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : بندے کے پاک ہونے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اسے نیک عمل ، الہام کرتا ہے ، یہاں تک کہ اس ( نیک عمل ) پر اس ( شخص کی روح کو ) قبض کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جس کی بعض روایات میں لفظ ” طہرہ “ کی جگہ لفظ ” عسلہ “ ہے ، اور اس کے ایک طریق میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، جس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11932
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7900 و 7725 و 7522)»