مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ عَلَامَةِ خَاتِمَةِ الْخَيْرِ . باب: خاتمہ بالخیر کی علامت کا بیان
وَعَنْ أَبِي عِنَبَةَ قَالَ شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ، وَلَهُ صُحْبَةٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَّلَهُ " . قِيلَ : وَمَا عَسَّلَهُ ؟ قَالَ : " يَفْتَحُ لَهُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ مَوْتِهِ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فِي الْمُسْنَدِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابوعنبہ بیان کرتے ہیں : سیدنا شریح بن نعمان رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لیتا ہے ، تو اسے شہد والا کرتا ہے ، عرض کی گئی : اس کو شہد والا کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اس کی موت سے پہلے اس کے لئے نیک عمل کو کھول دیتا ہے اور پھر اسی حالت میں اس کی جان قبض کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، جس نے ” مسند “ میں سماع کی صراحت کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔