حدیث نمبر: 11912
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَشَرٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ إِصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِنْ شَاءَ أَقَامَهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا ، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَبَعْضُهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ” اے اللہ ! اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا ۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دل بھی تبدیل ہو جاتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ، بنی آدم میں سے ہر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے ، دو انگلیوں کے درمیان ہے ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے ٹھیک رکھتا ہے اور اگر چاہے تو اُسے ٹیڑھا کر دیتا ہے ، تو ہم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہیں ، کہ وہ ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے ، اور ہم اس سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کرے ، بے شک وہ بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس کا کچھ حصہ امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف