مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَلْبِ . باب: دل کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَخَافُ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ ، فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُقَلِّبَهُ مِنَ الضَّلَالَةِ إِلَى الْهُدَى أَوْ مِنَ الْهُدَى إِلَى الضَّلَالَةِ فَعَلَ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : فِي بَعْضِ مَا يَرْوِيهِ نَكِرَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ خِلَافٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : ” اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا آپ کو بھی اندیشہ ہے حالانکہ آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! اولاد آدم کے دل ، رحمن کی انگلیوں میں سے ، دو انگلیوں کے درمیان ہیں ، وہ جس کے بارے میں چاہتا ہے کہ اُسے گمراہی سے ہدایت کی طرف پلٹ دے یا ہدایت سے گمراہی کی طرف پلٹ دے ، تو وہ ایسا کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن فضل ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ بعض روایات میں منکر ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔