حدیث نمبر: 11907
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ ، إِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَا يَقْضِي لِلْمُؤْمِنِ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : فَذَكَرَهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي بَحْرٍ ثَعْلَبَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے مومن پر حیرانگی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کے بارے میں جو بھی فیصلہ کرتا ہے وہ اُس ( مومن ) کے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوثعلبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11907
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (4217 و 4019) اخرجه احمد فى المسند (24/5)»