مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْكَلَامِ فِي الْقَدَرِ . باب: تقدیر کے بارے میں بات چیت کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 11855
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " آخِرُ الْكَلَامِ فِي الْقَدَرِ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ " لَشِرَارُ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ " ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ [ فِي أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ] رِجَالُ الصَّحِيحِ [ غَيْرَ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَلِيفَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ ] . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تقدیر کے بارے میں گفتگو کرنے کو اس امت کے برے لوگوں کے لئے مؤخر کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” آخری زمانے میں میری امت کے برے لوگوں کے لئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ دو اسناد میں سے ایک میں امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمر بن ابوخلیفہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔