مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ . باب: تقدیر پر ایمان رکھنا
وَعَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الْكُوفَةَ ، فَأَتَيْتُهُ فِي نَاسٍ مِنْ عُلَمَاءِ الْكُوفَةِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ شَابٌّ ، فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : نَعَمْ ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُسْلِمَ ، فَقَالَ : " يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ " ، قُلْتُ : وَمَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُؤْمِنُ بِالْأَقْدَارِ كُلِّهَا خَيْرِهَا وَشَرِّهَا حُلْوِهَا وَمُرِّهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي بَابِ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤عامر شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے ، علمائے کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ہمراہ ، میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں ان دنوں نوجوان تھا ، ہم نے گزارش کی کہ آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، میں اسلام قبول کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عدی بن حاتم ! تم اسلام قبول کر لو ، تم سلامت رہو گے ، میں نے عرض کی : اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور تم اس بات کی گواہی دو کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور تم ہر قسم کی تقدیر پر ایمان رکھو ، خواہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ، میٹھی ہو یا کڑوی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس نوعیت کی کچھ احادیث اس باب میں آئیں گی ، جس میں یہ مذکور ہے کہ ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے ۔