مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ . باب: تقدیر پر ایمان رکھنا
حدیث نمبر: 11843
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ أَنْبِيَاءَهُمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَيْهِمْ ، وَلَنْ يُؤْمِنَ أَحَدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور لوگوں کے پاس ٹھہر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے ( غیر ضروری ) سوالات کرنے کی وجہ سے اور اُن سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، اور کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ اچھی اور بری ( ہر قسم کی ) تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔