حدیث نمبر: 11808
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ نَسَمَةً قَالَ مَلَكُ الْأَرْحَامِ مُعْرِضًا : أَيْ رَبِّ ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ فَيَقْضِي اللَّهُ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ؟ فَيَقْضِي اللَّهُ أَمْرَهُ ، ثُمَّ يَكْتُبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَا هُوَ لَاقٍ حَتَّى النَّكْبَةَ يُنْكَبُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی جان کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو رحم سے متعلق فرشتہ آگے آتا ہے اور عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ مذکر ہو گا ؟ یا مؤنث ؟ تو اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ سناتا ہے ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ؟ تو اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ سناتا ہے ، پھر وہ فرشتہ اس شخص کی دونوں آنکھوں کے درمیان وہ چیز لکھ دیتا ہے ، جس کا اسے سامنا کرنا ہو گا ، یہاں تک کہ جو کانٹا اُسے لگے گا ، وہ بھی لکھ دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2149) اخرجه ابو يعلى فى المسند (5775)»