حدیث نمبر: 11807
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ النُّطْفَةَ تَكُونُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا عَلَى حَالِهَا لَا تَغَيَّرُ ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعُونَ صَارَتْ عَلَقَةً ، ثُمَّ مُضْغَةً كَذَلِكَ ، ثُمَّ عِظَامًا كَذَلِكَ ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُسَوِّيَ خَلْقَهُ بَعَثَ إِلَيْهَا مَلَكًا ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ الَّذِي يَلِيهِ : أَيْ رَبِّ ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ؟ أَقَصِيرٌ أَمْ طَوِيلٌ ؟ نَاقِصٌ أَمْ زَائِدٌ ؟ قُوتُهُ ؟ أَجَلُهُ ؟ أَصَحِيحٌ أَمْ سَقِيمٌ ؟ " ، قَالَ : " فَيُكْتَبُ ذَلِكَ كُلُّهُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا ؟ وَقَدْ فُرِغَ مِنْ هَذَا كُلِّهِ ، فَقَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ سَيُوَجَّهُ لِمَا خُلِقَ لَهُ " ، قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمُعْجَمِ الصَّغِيرِ بِنَحْوِ مَا فِي الصَّحِيحِ ، وَزَادَ " ثُمَّ يَكْسُو اللَّهُ الْعِظَامَ لَحْمًا " ، وَقَالَ : " وَأَثَرُهُ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نطفہ رحم میں چالیس دن تک اسی حالت ( یعنی نطفے کی شکل میں ) رہتا ہے ، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ، جب چالیس دن گزر جاتے ہیں ، تو پھر یہ جما ہوا خون کا لوتھڑا بن جاتا ہے ، پھر گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں اتنا ہی عرصہ رہتا ہے ، پھر ہڈیاں اتنے ہی عرصے میں بنتی ہیں ، پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی تخلیق کو مکمل کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے ، فرشتہ جو اس سے متعلق ہوتا ہے ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث ؟ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ؟ چھوٹے قد کا ہو گا یا لمبا ہو گا ؟ نقص والا ہو گا یا اضافی ہو گا ؟ اس کی قوت کیا ہو گی ؟ اس کو موت کب آئے گی ؟ کیا یہ تندرست ہو گا یا بیمار ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو یہ سب چیزیں وہ نوٹ کرتا ہے ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ جب ہر حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ عمل کرو ! کیونکہ ہر ایک کو اس چیز کی طرف متوجہ کر دیا جائے گا ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس کی بہ نسبت اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، علی بن زید نامی راوی خراب حافظے مالک ہے ، امام طبرانی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ” معجم صغیر “ میں اس کی مانند نقل کی ہے ، جو صحیح میں مذکور ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور پھر اللہ تعالیٰ اُس کی ہڈیوں کو گوشت پہنا دیتا ہے “ اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” اور اس کا اثر ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11807
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (442) اخرجه احمد فى المسند (374/1)»