مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابٌ : تَحَاجِّ آدَمَ وَمُوسَى - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا - وَغَيْرِهِمَا . باب: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بحث کا بیان اللہ تعالیٰ کا درود ، اُن دونوں پر ، اور دیگر انبیاء کرام پر نازل ہو
عَنْ جُنْدُبٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - وَغَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ ، فَأَخْرَجْتَ النَّاسَ مِنَ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ نَجِيًّا ، وَآتَاكَ التَّوْرَاةَ ، تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ كُتِبَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي ! " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " . ¤سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور دیگر اصحاب یہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک مرتبہ سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بحث ہو گئی ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ وہی سیدنا آدم علیہ السلام ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور اپنی جنت میں آپ کو ٹھہرایا ، اور پھر آپ نے لوگوں کو جنت سے نکلوا دیا ؟ سیدنا آدم علیہ السلام نے فرمایا : تم وہی موسیٰ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کی ، اور تمہیں تورات عطا کی ، تم ایک ایسے معاملے کے حوالے سے مجھے ملامت کر رہے ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ نے میری تخلیق سے پہلے ہی میرے بارے میں طے کر دیا تھا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو سیدنا آدم علیہ السلام ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ۔ “