حدیث نمبر: 11775
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَأَى رُؤْيَا ؟ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ هَوَيْنَ فِي حُجْرَتِي ، فَقَالَ لَهَا : " إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ - أُرَاهُ قَالَ - أَفْضَلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ أَفْضَلُ أَقْمَارِهَا ، ثُمَّ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ قُبِضَ عُمَرُ ، فَدُفِنُوا فِي بَيْتِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَبَحُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کسی نے کوئی ( نمایاں قسم کا ) خواب دیکھا ہے ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے دیکھا کہ ” تین چاند “ اتر کر میرے حجرے میں آ گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اگر تمہارا خواب سچ ہوا ، تو تمہارے گھر میں ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) اہل جنت کے افضل ترین لوگ دفن ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( ان تینوں ) چاندوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے تھے ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو یہ حضرات ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں دفن ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سعید ابح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11775
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (48/23)»