مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التعبير— ( خوابوں کی ) تعبیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا . باب: خواب کی تعبیر کا بیان
وَعَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : رَأَى مُطِيعُ بْنُ الْأَسْوَدِ فِي مَنَامِهِ أَنَّهُ أُهْدِيَ إِلَيْهِ جِرَابُ تَمْرٍ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَلْ بِأَحَدٍ مِنْ فَتَيَاتِكَ حَمْلٌ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ بِامْرَأَةٍ مَنْ بَنِي لَيْثٍ وَهِيَ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ : " إِنَّهَا سَتَلِدُ غُلَامًا " . فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ، وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤ذکریا بن ابراہیم بن عبداللہ بن مطیع ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ انہیں کھجوروں کا توڑا تحفے کے طور پر دیا گیا ہے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہاری بیویوں میں سے کوئی حاملہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! بنولیث سے تعلق رکھنے والی ( میری ) بیوی حاملہ ہے ، پھر اُس خاتون نے بیٹے کو جنم دیا ، تو سیدنا مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ اس بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس بچے کا نام عبداللہ رکھا اور کھجور کے ذریعے اُسے گھٹی دی اور اُس کے لئے برکت کی دعا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے زکریا کے حوالے سے ، ابراہیم سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔