حدیث نمبر: 11739
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : أَنْتَ أَعْلَمُ أَيْ رَبِّ . فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ ، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ . ثُمَّ تَلَا : " وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ " . ثُمَّ قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى يَا مُحَمَّدُ ؟ فَقُلْتُ : فِي الْكَفَّارَاتِ ، قَالَ : وَمَا هُنَّ ؟ قُلْتُ : الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ ، وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ أَمَاكِنَهُ فِي الْمَكَارِهِ " . قَالَ : " وَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَعِشْ بِخَيْرٍ وَيَمُتْ بِخَيْرٍ وَيَكُونُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، وَمِنَ الدَّرَجَاتِ إِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَبَذْلُ السَّلَامِ ، وَأَنْ تَقُومَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الطَّيِّبَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ، وَتَرْحَمَنِي ، وَتَتُوبَ عَلَيَّ ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَلَّمُوهُنَّ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُنَّ الْحَقُّ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے اپنے پروردگار کو خوبصورت ترین شکل میں دیکھا ، اس نے فرمایا : اے محمد ! ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو زیادہ بہتر جانتا ہے ، تو اُس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا ، تو میں نے اُس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ، تو مجھے ان چیزوں کا علم ہو گیا ، جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی دکھائی ، تاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! املاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفاروں کے بارے میں ، اس نے دریافت کیا : وہ کیا چیزیں ہیں ؟ میں نے عرض کی : باجماعت نماز کی طرف پیدل چل کر جانا ، نماز کے علاوہ مساجد میں بیٹھے رہنا ، اور جس وقت طبیعت کو ناگوار ہو ، اُس وقت اچھی طرح وضو کرنا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پروردگار نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسا کرے گا ، وہ بھلائی کے ساتھ زندہ رہے گا اور بھلائی کے ساتھ مرے گا ، اور اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جائے گا ، جیسے اُس دن تھا ، جب اُس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اور درجات کے بارے میں ( ملاء اعلیٰ گفتگو کر رہے ہیں ) کہ وہ کھانا کھلانا ، سلام پھیلانا ہے اور رات کے وقت اس وقت نماز ادا کرنا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ، پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ میں پاکیزہ کام کروں ، منکر چیزیں ترک کر دوں ، مسکینوں سے محبت رکھوں اور تو میری مغفرت کر دے ، اور تو مجھ پر رحم کر اور تو میری توبہ قبول فرما ، اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے ایسی حالت میں وفات دینا کہ میں آزمائش سے محفوظ ہوؤں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ان کلمات کو سیکھ لو ! اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ کلمات حق ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11739
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف