حدیث نمبر: 11738
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ غَدَاةٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ مُشْرِقُ الْوَجْهِ ، أَوْ مُسْفِرُ الْوَجْهِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَرَاكَ مُسْفِرَ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقَ الْوَجْهِ ؟ فَقَالَ : " مَا يَمْنَعُنِي ، وَأَتَانِي رَبِّي اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي أَيْ رَبِّ . قَالَ ذَاكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ : فَوَضَعَ كَفَّيْهِ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى تَجَلَّى لِي مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ . ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : " وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ " الْآيَةَ . [ ثُمَّ ] قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : فِي الْكَفَّارَاتِ ، قَالَ : وَمَا الْكَفَّارَاتُ ؟ قُلْتُ : الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ [ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ] ، وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسْجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ ، وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، وَمِنَ الدَّرَجَاتِ طِيبُ الْكَلَامِ ، وَبَذْلُ السَّلَامِ ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ . وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِي النَّاسِ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن عائش ، ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، تو آپ کا مزاج خوشگوار تھا اور آپ کا چہرہ مبارک جگمگا رہا تھا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کا چہرہ جگمگا رہا ہے ( یہاں الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا کیوں نہ ہو ؟ جبکہ گزشتہ رات میرا پروردگار ، میرے پاس خوبصورت ترین شکل میں آیا اور اس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار میں حاضر ہوں اور سعادت تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ، پروردگار نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : اے اللہ ! میں نہیں جانتا ، پروردگار نے دو یا تین مرتبہ یہ بات کہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر اُس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھے ، تو میں نے اُن کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ، یہاں تک کہ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے ، وہ میرے سامنے روشن ہو گیا ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی دکھائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفاروں کے بارے میں ، پروردگار نے دریافت کیا : کون سے کفارے ؟ میں نے عرض کی : با جماعت نماز کی طرف پیدل چل کر جانا ، نماز کے علاوہ مسجد میں بیٹھے رہنا ، جب طبیعت کو نا گوار گزرے ، اُس وقت اچھی طرح وضو کرنا ، جو شخص ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندہ رہے گا اور بھلائی کے ساتھ مرے گا ، اور اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جائے گا ، جیسے اُس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا اور ( ملاء اعلیٰ اس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ) کہ درجات میں ، پاکیزہ کلام کرنا ، سلام پھیلانا ، کھانا کھلانا اور رات کے وقت نماز پڑھنا شامل ہے ، جب لوگ سو رہے ہیں ، پھر پروردگار نے فرمایا : ” اے محمد ! جب تم نماز پڑھو ، تو یہ پڑھو : ” اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزیں مانگتا ہوں اور منکرات کو ترک کرنے کا اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری توبہ قبول فرما لے ، اور جب تو لوگوں میں کوئی فتنہ پیدا کرنے کا ارادہ کرے ، تو مجھے ایسی حالت میں وفات دینا کہ میں فتنے سے محفوظ ہوؤں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التعبير / حدیث: 11738
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (66/4)»