مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْقِرَاءَةِ بِالصَّوْتِ الْحَسَنِ . باب: اچھی آواز میں تلاوت کرنا
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ وَعَائِشَةَ مَرَّا بِأَبِي مُوسَى وَهُوَ يَقْرَأُ فِي بَيْتِهِ ، فَقَامَا يَسْتَمِعَانِ لِقِرَاءَتِهِ ، ثُمَّ إِنَّهُمَا مَضَيَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ لَقِيَ أَبَا مُوسَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَبَا مُوسَى ، مَرَرْتُ بِكَ الْبَارِحَةَ وَمَعِي عَائِشَةُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ فِي بَيْتِكَ فَقُمْنَا وَاسْتَمَعْنَا " . فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : أَمَا إِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ عَلِمْتُ لَحَبَّرْتُهُ لَكَ تَحْبِيرًا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ، وہ اپنے گھر میں تلاوت کر رہے تھے ، یہ دونوں کھڑے ہو کر اُن کی تلاوت سننے لگے ، پھر یہ دونوں چلے گئے ، اگلے دن صبح سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوموسی ! میں گزشتہ رات تمہارے گھر کے پاس سے گزرا تھا ، میرے ساتھ عائشہ بھی تھی ، تم اپنے گھر میں تلاوت کر رہے تھے ، تو ہم کھڑے ہو کر تمہاری تلاوت سنتے رہے ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر مجھے یہ پتہ ہوتا ، تو میں اپنی تلاوت کو اور زیادہ بنا سنوار کر تلاوت کرتا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔