مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ تَعَاهُدِ الْقُرْآنِ . باب: قرآن کا خیال رکھنا
حدیث نمبر: 11691
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ نَوَازِعِ الطَّيْرِ إِلَى أَوْطَانِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ : " تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ وَحْشِيٌّ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . وَرِجَالُ الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن کا دھیان رکھو ! کیونکہ یہ انسانوں کے سینوں سے ، اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے ، جتنی تیزی سے پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف جاتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، تاہم معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” قرآن کا دھیان رکھو ! کیونکہ یہ بدکنے والا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔ معجم صغیر اور معجم اوسط کے رجال ثقہ ہیں ۔