حدیث نمبر: 11690
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِلَى أَعْطَانِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ أَحْمَدَ لَمْ يَنْسِبْهُ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ ابْنَ الْخَلِيلِ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن کا دھیان رکھو ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ انسانوں کے سینے سے ، اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے ، جتنی تیزی سے بندھا ہوا ، اونٹ اپنے بیٹھنے کی جگہ کی طرف نکلتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد أحمد کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ، اگر تو وہ أحمد بن خلیل ہے تو پھر وہ ضعیف ہے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2125)»