حدیث نمبر: 11679
وَفِي رِوَايَةٍ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِذَا أَصْبَحَ أَتَاهُ النَّاسُ فِي دَارِهِ ، فَيَقُولُ : عَلَى مَكَانِكُمْ ، ثُمَّ يَمُرُّ بِالَّذِينِ يُقْرِئُهُمُ الْقُرْآنَ ، فَيَقُولُ : أَيَا فُلَانُ ، بِأَيِّ سُورَةٍ أَنْتَ ؟ فَيُخْبِرُهُ [ فَيَقُولُ ] فِي أَيِّ آيَةٍ ، فَيَفْتَحُ عَلَيْهِ الْآيَةَ الَّتِي تَلِيهَا ثُمَّ يَقُولُ : تَعَلَّمْهَا فَإِنَّهَا خَيْرٌ لَكَ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ . قَالَ : فَيَظُنُّ الرَّجُلُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ خَيْرٌ مِنْهَا ، ثُمَّ يَمُرُّ بِالْآخْرَ فَيَقُولُ لَهُ : مِثْلَ ذَلِكَ ، حَتَّى يَقُولَ ذَلِكَ لِكُلِّهِمْ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ مِنْ قَوْلِي : وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس صبح کے وقت لوگ ان کے گھر آتے تھے ، تو آپ فرماتے تھے : تم لوگ اپنی جگہ پر رہو ! پھر وہ ان لوگوں کے پاس سے گزرتے تھے ، جنہیں انہوں نے قرآن پڑھانا ہوتا تھا اور پھر آپ فرماتے تھے : اے فلاں ! تم کون سی سورت پر ہو ؟ وہ انہیں بتاتا تھا تو آپ دریافت کرتے تھے : کون سی آیت پر ہو ؟ پھر وہ اس کے بعد والی آیت اسے سکھاتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے : تم اسے سیکھ لو ! کیونکہ یہ تمہارے لئے ہر اُس چیز سے زیادہ بہتر ہے ، جو آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہے ، راوی کہتے ہیں : تو آدمی یہ سمجھتا تھا کہ شاید قرآن میں اُس سے بہتر آیت اور کوئی نہیں ہے ، پھر وہ دوسرے شخص کے پاس سے گزرتے تھے ، تو اُسے بھی یہی بات کہتے تھے ، یہاں تک کہ وہ سب لوگوں سے یہی بات کہتے تھے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور ان سب کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں : کہ یہ ابوعبیدہ کے حوالے سے اُن کے والد سے منقول ہے اور ابوعبیدہ نے ، اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11679
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8662)»